navigate_before
navigate_next

Home

Prof. Dr. Fakhr-Ul-Islam (Urdu: ﻓﺨﺮاﻻﺳﻼم )  belongs to a village named Garhi Usmani Khel at Malakand district of Khyber Pakhtunkhwa in Pakistan. He got his master degrees in Pakistan Studies and Political Science from Peshawar and Punjab Universities respectively. He also got Postgraduate Diploma in International Human Rights Law. In 1997, he received his Ph.D. degree from Area Study Centre for Russia, China and Central Asia. Dr. Fakhr has a very brilliant academic record. He topped Peshawar University in BA examination. He has been teaching in Pakistan Study Centre University of Peshawar since 1987. In the meantime he taught in the International Islamic University (IIUI) Islamabad. In IIUI, he also acted as Head Department of Politics and International Relations and Acting Dean Faculty of Social Sciences. He also remained Director Social Welfare and Special Education in the Government of NWFP during 2003-2008. In 2011, he was appointed as Director Pakistan Study Centre Peshawar University, a post he is holding till date. Apart from teaching at Pakistan Study Centre University of Peshawar, he has been teaching as Visiting Professor in various Universities, and research/capacity building institutions. He has to his credit 8 books and 70 research papers published in journals of international repute. He is also Editor of HEC recognized journal “Pakistan” He is associated with numerous research/development organizations and think tanks. He has visited many countries of Asia, Europe and Africa where he participated in various programs and delivered lectures in universities.

00

Research Articles

2019
  • Agency of the Year
  • 5 x Best Design Solution
2018
  • Peace-making Efforts in KP: An Analysis of MMA, ANP and PTI Governments (2002-18)
  • Multicultural Agency
  • 2 x Creative Ads
  • Agency of the Year
  • 4 x Best Design Solution
  • Creative Digital Product
2017
  • 2 x Best Retail Activation
  • 7 x Best SM Campaign
  • Site of the Year
  • Rising Talent Agency
2016
  • 9 x Site of the Day
  • 22 x Designer of the Day
  • 2 x Agency of the Year

BLOG

My Poetry

زما شاعری۔ : My Poetry Research Methodology 7th Decade of Pakistan Movement Pakistan Movement Last Decade 8th Decade of Pakistan Movement

Read More »

FACEBOOK FEED

Comments Box SVG iconsUsed for the like, share, comment, and reaction icons

سفر نامہ حج، دوسری قسط

ہم اگلے دن جدہ کےکنگ عبدالعزیز انٹر نیشنل ہوائی اڈے پر اُترے۔ اس کو عربی میں مطارالملک عبدالعزیز الدولی کہتے ہیں۔اس ہوائی اڈے کا حج ٹرمینل بیک وقت میں ایک لاکھ سے ذیادہ مسافروں کی نشست و برخاست کا انتظام ہے۔ہر سال اس پر 8 کروڑ مسافر اُترتے یا روانہ ہوتے ہیں۔ہم فجر سے ذرا پہلے جہاز سے باہر آئے۔ کلیرنس کے تکلیف دہ عمل سے گزرنے کے بعد باہر نکلے تو بیٹھنے کا انتظام نہیں تھا، اس لئے مرد وخواتین فرش پر بیٹھ گئے، اور تقرییاَ 5 گھنٹوں تک بے یارومددگار رُلتے رہے۔ آخرکار بسیں آگئیں۔ جب مکے کی شاہراہ پر روانہ ہوئے تو بیت اللہ شریف کی دیدار کے شوق میں پشاور تا جدہ ساری سختیاں بھول گئے، پھر وہی لبیک الھم لبیک کی مسحور کن صدائیں اور آنکھوں میں ایک روحانی ماحول میں جانے کی اُمیدیں۔

راستے میں جگہ جگہ مختلف چیک پوسٹوں پر ہمارے کاغذات کا اندراج ہوتا رہا۔ ایک جگہ چیک پوسٹ انتظامیہ نے ہم سب کو لنچ باکس اور زمزم کا پانی دیا۔ سعودی عرب امد کے بعد زم زم کا پانی پہلی بار نوش جان کیا۔ جدہ سے حرم شریف مکہ تک 104 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے میں ہمیں ڈھائی گھنٹے لگے۔

ہم جب مکہ شہر کی حدود میں داخل ہوئے تو عجیب احساسات تھے۔ مجھ سمیت بہت سارے لوگوں کو توقع تھی کہ کچھ ہی دیر میں کعبہ شریفہ سامنے نظر آنے لگے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ وہ تو جب ہم اپنے ہوٹل میں سامان رکھنے کے بعد بیت اللہ شرف روانہ ہوئے تو ڈھلوان سے نیچے اُترتی ہوئی سڑک پر کم وبیش دو سو فٹ نیچے چلے گئے اس کے بعد سامنے حرم شریف کے دروازے نظر آئے، دروازے سے داخل ہونے کے بعد مزید 30 فٹ نیچے اترنے کے بعد ہی خانہ کعبہ نظر آگیا۔

حرم شریف میں کل 25 دروازے یا باب ہیں، جن میں مغرب و مشرق کے طراف میں 5،5 شمال کی سمت میں 8جبکہ جنوب کی طرف 7 دروازے کھلتے ہیں۔ ہر دروازے کا مخصوص نام ہے جیسے باب عبدالعزیز، باب فہد، باب عمرہ، باب الفتح وغیرہ۔

ہماری رہائش حرم سے تقریباَ ایک ہزار گز دور اوپر کی طرف شامیہ نامی علاقے میں تھی۔ ہمیں عمرہ کی نیت سے باب عمرہ سے داخل ہوناچاہئیے تھا مگر حرم کے قریب پہنچے تو دیوانہ وار قریبی دروازے باب الفتح سے اندر لپکے۔ سامنے وہ عمارت نظر آئی جس کا نام ہوش سنبھالنے کے بعد زبان پر، اور تصور ذہن میں موجود رہا تھا، میر امطلب ہے کعبۃاللہ۔

کیا شان ہے اس عمارت کی۔لوگوں میں مشہورہے کہ کعبۃاللہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو بھی دُعا مانگی جائے تو قبول ہوتی ہے۔ میں نے اس سلسلے میں حوالہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ آخر ایک حدیث شریف پڑھنے کو ملی جو حضرت ابی امامہ اباھلیؓ سے مروی ہے۔ اس کے مطابق حضورؐ نے فرمایا کہ چار حالتوں میں آسمان کے دروازے کھلے اور دُعائیں قبول ہوتی ہیں:
1۔صفیں درست کرتے وقت
2۔ بارش برستے وقت
3۔ اقامت صلوٰۃ کے موقع پر اور
4۔کعبۃاللہ پر نظر پڑتے وقت
چنانچہ جب مقدس کعبہ پر میری پہلی نظر پڑ گئی تو میں نے بلند آواز سے یا اللہ ! میری دُعا ؤں کو قبول فرما کے الفاظ ادا کئے۔ اس کے بعد عمرہ کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کیا۔ باقی تفصیل قسط سوم میں [ڈاکٹر فخرالاسلام]
... See MoreSee Less

سفر نامہ حج، دوسری قسط

ہم اگلے دن جدہ کےکنگ عبدالعزیز انٹر نیشنل  ہوائی اڈے پر اُترے۔ اس کو عربی میں مطارالملک عبدالعزیز الدولی کہتے ہیں۔اس ہوائی اڈے کا حج ٹرمینل بیک وقت میں ایک لاکھ سے ذیادہ مسافروں کی نشست و برخاست کا انتظام ہے۔ہر سال اس پر 8 کروڑ مسافر اُترتے یا روانہ ہوتے ہیں۔ہم فجر سے ذرا پہلے جہاز سے باہر آئے۔ کلیرنس کے تکلیف دہ عمل سے گزرنے کے بعد باہر نکلے تو بیٹھنے کا انتظام نہیں تھا، اس لئے مرد وخواتین فرش پر بیٹھ گئے، اور تقرییاَ 5 گھنٹوں تک بے یارومددگار  رُلتے رہے۔ آخرکار بسیں آگئیں۔ جب مکے کی شاہراہ پر روانہ ہوئے تو بیت اللہ شریف کی دیدار کے شوق میں پشاور تا جدہ ساری سختیاں بھول گئے، پھر وہی لبیک الھم لبیک کی مسحور کن صدائیں اور آنکھوں میں ایک روحانی ماحول میں جانے کی اُمیدیں۔ 

راستے میں جگہ جگہ مختلف چیک پوسٹوں پر ہمارے کاغذات کا اندراج ہوتا رہا۔ ایک جگہ چیک پوسٹ انتظامیہ  نے ہم سب کو لنچ باکس اور زمزم کا پانی دیا۔ سعودی عرب امد کے بعد زم زم  کا پانی پہلی بار نوش جان کیا۔ جدہ سے حرم شریف مکہ تک 104 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے میں ہمیں ڈھائی گھنٹے لگے۔ 

ہم جب مکہ شہر کی حدود میں داخل ہوئے تو عجیب احساسات تھے۔ مجھ سمیت بہت سارے لوگوں کو توقع تھی کہ کچھ ہی دیر میں کعبہ شریفہ سامنے نظر آنے لگے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ وہ تو جب ہم اپنے ہوٹل میں  سامان رکھنے کے بعد بیت اللہ شرف روانہ ہوئے تو ڈھلوان سے نیچے اُترتی ہوئی سڑک پر کم وبیش دو سو فٹ نیچے چلے گئے اس کے بعد  سامنے حرم شریف کے دروازے نظر آئے، دروازے سے داخل ہونے کے بعد مزید 30 فٹ نیچے اترنے کے بعد ہی خانہ کعبہ نظر آگیا۔

حرم شریف میں کل 25 دروازے یا باب ہیں، جن میں مغرب و مشرق کے طراف میں 5،5 شمال کی سمت میں 8جبکہ  جنوب کی طرف 7 دروازے کھلتے ہیں۔ ہر دروازے کا مخصوص نام ہے جیسے باب عبدالعزیز، باب فہد، باب عمرہ، باب الفتح وغیرہ۔

 ہماری رہائش حرم سے تقریباَ  ایک ہزار گز دور اوپر کی طرف شامیہ نامی علاقے میں تھی۔ ہمیں عمرہ کی نیت سے باب عمرہ سے داخل ہوناچاہئیے تھا مگر حرم کے قریب پہنچے تو دیوانہ وار قریبی دروازے باب الفتح سے اندر لپکے۔ سامنے وہ عمارت نظر آئی جس کا نام  ہوش سنبھالنے کے بعد زبان پر، اور تصور ذہن میں موجود رہا تھا، میر امطلب ہے کعبۃاللہ۔

 کیا شان ہے اس عمارت کی۔لوگوں میں مشہورہے کہ کعبۃاللہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو بھی دُعا مانگی جائے تو  قبول ہوتی ہے۔ میں نے اس سلسلے میں حوالہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ آخر  ایک حدیث شریف  پڑھنے کو ملی  جو حضرت  ابی امامہ اباھلیؓ سے مروی ہے۔ اس کے مطابق حضورؐ نے فرمایا کہ چار حالتوں میں آسمان کے دروازے کھلے اور دُعائیں قبول ہوتی ہیں:
1۔صفیں درست کرتے وقت
 2۔ بارش برستے وقت
 3۔ اقامت صلوٰۃ کے موقع پر اور
 4۔کعبۃاللہ پر نظر پڑتے وقت
چنانچہ جب  مقدس کعبہ پر میری پہلی نظر پڑ گئی تو میں نے بلند آواز سے یا اللہ ! میری دُعا ؤں کو قبول فرما کے الفاظ ادا کئے۔ اس کے بعد عمرہ کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کیا۔ باقی تفصیل قسط سوم میں [ڈاکٹر فخرالاسلام]

Comment on Facebook

@top fans

MashaAllah Here's a possible comment: Respected Professor, you are indeed the pride of our province, Khyber Pakhtunkhwa (KP)! Your dedication, expertise, and passion for teaching have inspired countless students and made a significant impact on our community.

ډېره ښه سفرنامه ده،ما لوستی ده

بهت خوب،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،.!

ماشاء اللہ

Aoa Sir G mash Allah Der kha there d

ڈاکٹر صاحب اس سفرنامے کی ایک کاپی چاھیے کھاں سے ملے گی

میرے ساتھ جانے والے سب عربی تھے جب ھم حرم شریف میں داخل ہورہے تھے تو کتابچے کے مطابق باب السلام سے داخل ہونا بہترتھا لیکن عرب اتنی پرواہ نہیں کرتے میں نے بعض ساتھیوں سے کہا کہ باب السلام سے.. لیکن ہر کوئ اپنا بول رہاتھا بمشکل تین ساتھیوں کو لے کر ھم باب السلام سے داخل ہوگئے کچھ انتہائ........

لبیک اللہم لبیک ۔۔۔ مزید کا انتظار ۔۔۔

ما شاءاللہ بہت خوب

ایسا ہی عمل میں نے کیا تھا ۔

بہت خوب جناب ❤️❤️❤️

سر جی❤️

Wonderful

Wait for part 3

View more comments

نوٹ: میرے حج کاسفر نامہ ان آٹھ سفرناموں میں سے ایک ہے جن کو میں نے اپنی کتاب "اسفار فخر" میں جمع کرکے شائع کیا ہے۔ مجھے سب سے زیادہ حج کاسفر نامہ پسند ہے۔ سوچا موسم حج کے دوران اُس سفر نامے کے بعض حصے دوستوں کے ساتھ شئیر کروں ۔ تو ملاحظہ کیجئیے قسط اول:

ہر مومن کی طرح ہر نماز کے بعد میری دُعاؤں میں بھی تر جیح اول حج اور مقامات مقدسہ کی زیارت ہوتی تھی۔ دُعا مانگنا بندے کاکام ہے اور یہ اختیار مالک کا ہے کہ کب ان دُعاؤں کو شرف قبولیت بخشے۔ یہاں دعا کا ذکر ہوا تو میں یہ بتاتا چلوں کہ ذاتی طورپر دعا میرے عقیدے کو قوت عطا کرتی ہے۔ اللہ کریم نے 2006 میں میری دُعا قبول کرلی اور 43 سال کے عمر میں حج اد اکیا۔
میرے والد مرحوم کثیرالعیالی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے حج نہیں کرسکے تھے۔ میرے دل میں یہ خواہش انگڑائی لیتی تھی کہ والد صاحب کو حج کراؤں مگر جب میرے کمانے کے دن آگئے تو والد صاحب دمے کی دائمی بیماری میں مبتلا ہوچکے تھے، اس لئے توجہ اور وسائل اُن کے علاج کی طرف کردئیے۔اُن کے انتقال کے بعد پکا ارادہ کرلیا کہ اللہ نے چاہا تو والدہ کو حج ضرور کراؤنگا۔
میرا منصوبہ یہ تھا کہ پہلے والدہ کے ساتھ حج پہ جاؤں اور چند سال بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک بار پھر چلاجاؤنگا۔ جب میں نے اہلیہ کے سامنے اپنا پروگرا م رکھا تو اُنہوں نے استفسار کیا کہ وہ کیوں نہ اس بار حج کریں؟ میں نے کہا کہ اصل میں میں اپنی والدہ کی خدمت کی طرف مکمل توجہ دینا چاہوں گا۔ اہلیہ نے کہا کہ جہاں تک والدہ کی خدمت کا تعلق ہے تو وہ بھی یہ سعادت حاصل کرنا چاہے گی۔ اور بہتر یہ ہوگا کہ ہم دونوں اس کی خدمت کریں۔ اُن کی رائے اس قدر خلوص اور وزن تھا کہ میں دونوں کو لیجانے پر تیار ہوا۔بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ فیصلہ بہت صائب اور بروقت تھا۔میری اہلیہ نے دوران حج اپنے اس وعدے کی زبردست لاج رکھ لی اور والدہ کی مجھ سے بڑھ کر خدمت کی اللہ تعالٰی اس کو جزائے خیر دے۔
میری خواہش تھی اور یہ لازم بھی تھا کہ حج ایسی کمائی سے کی جائے جو الائشوں سے پاک ہو۔ اللہ نے یہ آرزو بھی پوری کردی اور اخراجات میری تنخواہ سے بچی ہوئی کچھ رقم اور کچھ تاج آباد نزد سیکنڈری بورڈ پشاور میں دس مرلے کے مکان کی فروخت سے ملی ہوئی رقم سے ادا کئے۔ تین افراد کی رقم نسبتاَ سستے پیکیج والے پرائیویٹ حج اپریٹر کے ساتھ پروگرام بنایا۔حج کا ارادہ ہم نے تھوڑی سی تاخیر میں ظاہر کیا۔ سرکاری حج سکیم کی تو خیرتاریخ بہت پہلے گزر چکی تھی۔ میں نے اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی صابر حسین صاحب سے اس سلسلے میں مدد کی درخواست کی، اللہ بھلا کرے اُنہوں نے اپنے دوست صدہ اورکزئی ایجنسی کے حج ٹور آپریٹر حاجی نوراللہ گل سے ملوایا جنہوں نے بہت کم وقت میں ہمارے لئے کاغذی کاروائی مکمل کرکے ہمیں اپنے گروپ کے ساتھ لیجانے کا فیصلہ کرلیا۔ حاجی نوراللہ گل نے مجھے اور میری فیملی کو جو عزت دی اور حج کے دوران جتنا ہمارا خیال رکھا، اللہ کریم اُس کو اس کا اجر دے۔
جو لوگ حج پر جاتے ہیں اُن کے ہاں ضرور کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کو دیکھ کے ان کے ارادے متزلزل ہوجاتے ہیں۔ مثلاَ کسی کا سب سے چھوٹا بچہ اتنا کم عمر ہوتاہے کہ ان کو ملک میں چھوڑ دینا مشکل ہوتا ہے، کاروبار کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ چالیس یا اس سے ذیادہ دنوں کے لئے اسکو نہیں چھوڑا جا سکتا، کوئی بیماری ایسی ہے کہ خدشہ لاحق ہو کہ حج کی مشقت کی وجہ سے اس میں اضافے کا امکان ہو، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جو لوگ مشکلات کے باوجود حج پہ گئے ہیں وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ حج کی برکت سے اُن مشکلات کا حل نکل آتا ہے۔
ہم جب جارہے تھے تو ہمارے سب سے چھوٹے بیٹےحاشر کی عمر تین سال سے کچھ کم تھی۔ اُس کی ماں حج کے لئے بے تاب ہونے کے باوجود، حاشر کی وجہ سے آخر وقت میں قدرے ہچکچاہٹ کا شکار ہوگئی تھی لیکن پھر دوستوں، بہی خواہوں اور ہم سے پہلے حج پر جانے والوں نے تسلی دی کہ آپ اللہ کا نام لیکر جائیں اس مسلے کا حل نکل آئے گا۔ میرے بھائی مرحوم شمس الاسلام اپنی فیملی سمیت ہمارے گھر منتقل ہوا۔ ان کی وجہ سے حاشر اور اس کےبہن بھائیوں کو ہماری 45 روزہ دوری محسوس ہی نہیں ہوئی۔ ہم ماں باپ اور دادی جب ان سب کو چھوڑ کے جارہے تھے تو آنکھیں پُر نم تھیں بلکہ اہلیہ تو چھوٹے حاشر کیلئے بلک بلک کر رو رہی تھی۔ اللہ کا خاص کرم تھا کہ جوں ہی ہم نے ارض مقدس پر قدم رکھا ہمارے دلوں پر صبر کی پٹی چڑھ گئی۔ہم عبادات میں ایسے مشغول ہوگئے کہ بچوں اور گھر کا خیال ہی نہ رہا۔اس لئے ائندہ جو بھی ارادہ کریں وہ اللہ پر توکل کریں اور ارادوں کو متزلزل نہ ہونے دیں۔ قسط دوم ائیندہ[ڈاکٹر فخرالاسلام]
... See MoreSee Less

نوٹ: میرے حج کاسفر نامہ ان آٹھ سفرناموں میں سے ایک ہے جن کو میں نے اپنی کتاب اسفار فخر میں جمع کرکے شائع کیا ہے۔ مجھے سب سے زیادہ حج کاسفر نامہ پسند ہے۔ سوچا موسم حج کے دوران اُس سفر نامے کے بعض حصے دوستوں کے ساتھ شئیر کروں ۔ تو ملاحظہ کیجئیے قسط اول:

ہر مومن کی طرح ہر نماز کے بعد میری دُعاؤں میں  بھی تر جیح اول حج اور مقامات مقدسہ کی زیارت ہوتی تھی۔ دُعا مانگنا بندے کاکام ہے اور یہ اختیار مالک کا ہے کہ کب ان دُعاؤں کو شرف قبولیت بخشے۔ یہاں دعا کا ذکر ہوا تو میں یہ بتاتا چلوں کہ ذاتی طورپر دعا میرے عقیدے کو قوت عطا کرتی ہے۔ اللہ کریم نے 2006 میں میری دُعا قبول کرلی اور 43 سال کے عمر میں حج اد اکیا۔
میرے والد مرحوم کثیرالعیالی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے حج نہیں کرسکے تھے۔ میرے دل میں یہ خواہش انگڑائی لیتی تھی کہ والد صاحب کو حج کراؤں مگر جب میرے کمانے کے دن آگئے تو والد صاحب دمے کی دائمی بیماری میں مبتلا ہوچکے تھے، اس لئے توجہ اور وسائل  اُن کے علاج کی طرف کردئیے۔اُن کے انتقال کے بعد پکا ارادہ کرلیا کہ اللہ نے چاہا تو والدہ کو حج ضرور کراؤنگا۔
 میرا منصوبہ یہ تھا کہ پہلے والدہ کے ساتھ حج پہ جاؤں اور چند سال بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک بار پھر چلاجاؤنگا۔ جب میں نے اہلیہ کے سامنے اپنا پروگرا م رکھا تو اُنہوں نے استفسار کیا کہ وہ کیوں نہ اس بار حج کریں؟ میں نے کہا کہ اصل میں میں اپنی والدہ کی خدمت کی طرف مکمل توجہ دینا چاہوں گا۔ اہلیہ نے کہا کہ جہاں تک والدہ کی خدمت کا تعلق ہے تو وہ بھی یہ سعادت حاصل کرنا چاہے گی۔ اور بہتر یہ ہوگا کہ ہم دونوں اس کی خدمت کریں۔ اُن کی رائے اس قدر خلوص اور وزن تھا کہ میں دونوں کو لیجانے پر تیار ہوا۔بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ فیصلہ بہت صائب اور بروقت تھا۔میری اہلیہ نے دوران حج اپنے اس وعدے کی زبردست لاج رکھ  لی اور والدہ کی مجھ سے بڑھ کر خدمت کی اللہ تعالٰی اس کو جزائے خیر دے۔ 
     میری خواہش تھی اور یہ لازم بھی تھا کہ حج ایسی کمائی سے کی جائے جو الائشوں سے پاک ہو۔ اللہ نے یہ آرزو بھی پوری کردی اور اخراجات  میری تنخواہ سے بچی ہوئی کچھ رقم اور کچھ تاج آباد نزد سیکنڈری بورڈ پشاور میں  دس مرلے کے مکان کی فروخت سے ملی ہوئی رقم سے ادا کئے۔ تین افراد کی رقم نسبتاَ سستے پیکیج والے پرائیویٹ حج اپریٹر کے ساتھ پروگرام بنایا۔حج کا ارادہ ہم نے تھوڑی سی تاخیر میں ظاہر کیا۔ سرکاری حج سکیم کی تو خیرتاریخ بہت پہلے گزر چکی تھی۔ میں نے اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی صابر حسین صاحب سے اس سلسلے میں مدد کی درخواست کی، اللہ بھلا کرے اُنہوں نے اپنے دوست  صدہ اورکزئی ایجنسی کے  حج ٹور آپریٹر حاجی نوراللہ گل سے ملوایا جنہوں نے بہت کم وقت میں ہمارے لئے کاغذی کاروائی مکمل کرکے ہمیں اپنے گروپ کے ساتھ لیجانے کا فیصلہ کرلیا۔ حاجی نوراللہ گل نے مجھے اور میری فیملی کو جو عزت دی اور حج کے دوران جتنا ہمارا خیال رکھا، اللہ کریم اُس کو اس کا اجر دے۔ 
جو لوگ حج پر جاتے ہیں اُن کے ہاں ضرور کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کو دیکھ کے ان کے ارادے متزلزل ہوجاتے ہیں۔ مثلاَ کسی کا سب سے چھوٹا بچہ اتنا کم عمر ہوتاہے کہ ان کو ملک میں چھوڑ دینا مشکل ہوتا ہے، کاروبار کی نوعیت ایسی  ہوتی ہے کہ چالیس یا اس سے ذیادہ دنوں کے لئے اسکو نہیں چھوڑا جا سکتا، کوئی بیماری ایسی ہے کہ خدشہ لاحق ہو کہ حج کی مشقت کی وجہ سے اس میں اضافے کا امکان ہو، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جو لوگ مشکلات کے باوجود حج پہ گئے ہیں وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ حج کی برکت سے اُن مشکلات کا حل نکل آتا ہے۔ 
ہم جب جارہے تھے تو ہمارے سب سے چھوٹے بیٹےحاشر کی عمر تین سال سے کچھ کم تھی۔ اُس کی ماں حج کے لئے بے تاب ہونے کے باوجود، حاشر کی وجہ سے آخر وقت میں قدرے ہچکچاہٹ کا شکار ہوگئی  تھی لیکن پھر دوستوں، بہی خواہوں اور ہم سے پہلے حج پر جانے والوں نے تسلی دی کہ آپ اللہ کا نام لیکر جائیں اس مسلے کا حل نکل آئے گا۔ میرے بھائی  مرحوم شمس الاسلام اپنی فیملی سمیت ہمارے گھر منتقل ہوا۔ ان کی وجہ سے حاشر اور اس  کےبہن بھائیوں کو ہماری 45 روزہ دوری محسوس ہی نہیں ہوئی۔ ہم ماں باپ اور دادی جب ان سب کو چھوڑ کے جارہے تھے تو آنکھیں پُر نم تھیں بلکہ اہلیہ تو چھوٹے حاشر کیلئے بلک بلک کر رو رہی تھی۔ اللہ کا خاص کرم تھا کہ جوں ہی ہم نے ارض مقدس پر قدم رکھا ہمارے دلوں پر صبر کی پٹی چڑھ گئی۔ہم عبادات میں ایسے مشغول ہوگئے کہ بچوں اور گھر کا خیال ہی نہ رہا۔اس لئے ائندہ جو بھی ارادہ کریں وہ اللہ پر توکل کریں اور ارادوں کو متزلزل نہ ہونے دیں۔ قسط دوم ائیندہ[ڈاکٹر فخرالاسلام]

Comment on Facebook

@top fans

ماشاء اللہ بہترین

Cant believe it was 18 years ago.i remeber it was Hajj e akbar aswell. It was first time that we siblings were staying so long without all three of you . But kaka (may Allah bless him) made those tough times easier with his company and stay with us.

میری چھوٹی بہن نے اپ کے سفر نامے "اسفار فخر" پر بی ایس میں مقالہ لکھا ہے. بقول انکے "تعلیم یافتہ اور بڑے عہدوں پر فائز افراد میں آپ جیسے مشفق اور مخلص لوگ کم ہی ملتے ہیں" اللہ تعالی آپکو لمبی زندگی عطا کریں

ماشاءاللہ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کی سعی و عبادات کو شرف قبولیت بخشے ۔ مزید کا انتظار رہے گا

ڈاکٹر صاحب 2006 اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس سال ایک کیلنڈر (year )میں دو حج آئے تھے ایک جنوری میں اور دوسرا دسمبر میں اوراس ناچیز کودونوں حج کی سعادت نصیب ہوئی تھی

Great efforts done by you Sir how to get "Asfar e Fakhar" in hard form

ویسے سر کتاب کا نام پسند نہیں آیا ۔۔اگر سفر بفخر ہوتا تو

Great work sir

Great work Sir g.

زبردست ماشاءاللہ

Thanks for Sharing this Sir,

2006 زمانہ طالب علمی پشاور یونیورسٹی شعبہ سیاسیات سر اپ کا پوسٹ پڑھ کر یاد ایا۔زبردست تحریر بہت مزا ایا۔جزاک اللہ خیر۔

زبردست سر

thank u so much. interested God give u good reward

ماشاءاللہ

زبردست سر

گل اوسے ۔ جوند مو پہ خیر او خوشحالو۔ اللہ پاک دی مونگ ٹولو تہ توفیق را نصیب کی۔ امین

ماشاءاللہ ڈاکٹر صاحب بہت خوب

سر ماشااللہ بہت حوب سر میرے باپ، نے کئی دفعہ حج ادا کیا ہے لیکن یہ میری دلی خواہش ہے کہ میں اپنے ماں پر حج یہ عمرہ ادا کرونگا لیکن میری ماں بیمار بھی اور ضعیف العمر بھی ہے سر دعا کریں کوئی نہ کوئی بندوبست اللہ کرے امین

یہ بالکل ناقابل تردید حقیقت ھے

ما شاءاللہ ڈاکٹر صاب خوب صورت تحریر اگلے قسط کا انتظار رہے گا

جزاک اللہ۔۔

جاری رکھیں سر

Zabardast sir.Es waqt Jo halat palastine k ha sir kese ham harme pak me Allah ke huzur Pesh honge ham kese dua karenge,muje tu buhut sharm ati ha.Me tu Ajeeb tarah se feel kar raha hu sir

View more comments

28 مئی:
سلام اے محسن پاکستان!
... See MoreSee Less

28 مئی:
سلام اے محسن پاکستان!

Comment on Facebook

ہمارا ہیرو اللہ پاک جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

Salam

ہمارا ہیرو محسن پاکستان 😍😍

گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے.

*ہم اپنے محسنوں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔۔۔* *‏پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے جرم میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کو قید میں رکھا گیا، ان سے معافیاں منگوائی گئی، ان کے اوپر مالی حالات تنگ کر دیے گئے*

❤️

View more comments

Load more

YOUTUBE FEED

AFFILIATIONS