navigate_before
navigate_next

Home

Prof. Dr. Fakhr-Ul-Islam (Urdu: ﻓﺨﺮاﻻﺳﻼم )  belongs to a village named Garhi Usmani Khel at Malakand district of Khyber Pakhtunkhwa in Pakistan. He got his master degrees in Pakistan Studies and Political Science from Peshawar and Punjab Universities respectively. He also got Postgraduate Diploma in International Human Rights Law. In 1997, he received his Ph.D. degree from Area Study Centre for Russia, China and Central Asia. Dr. Fakhr has a very brilliant academic record. He topped Peshawar University in BA examination. He has been teaching in Pakistan Study Centre University of Peshawar since 1987. In the meantime he taught in the International Islamic University (IIUI) Islamabad. In IIUI, he also acted as Head Department of Politics and International Relations and Acting Dean Faculty of Social Sciences. He also remained Director Social Welfare and Special Education in the Government of NWFP during 2003-2008. In 2011, he was appointed as Director Pakistan Study Centre Peshawar University, a post he is holding till date. Apart from teaching at Pakistan Study Centre University of Peshawar, he has been teaching as Visiting Professor in various Universities, and research/capacity building institutions. He has to his credit 8 books and 70 research papers published in journals of international repute. He is also Editor of HEC recognized journal “Pakistan” He is associated with numerous research/development organizations and think tanks. He has visited many countries of Asia, Europe and Africa where he participated in various programs and delivered lectures in universities.

00

Research Articles

2019
  • Agency of the Year
  • 5 x Best Design Solution
2018
  • Peace-making Efforts in KP: An Analysis of MMA, ANP and PTI Governments (2002-18)
  • Multicultural Agency
  • 2 x Creative Ads
  • Agency of the Year
  • 4 x Best Design Solution
  • Creative Digital Product
2017
  • 2 x Best Retail Activation
  • 7 x Best SM Campaign
  • Site of the Year
  • Rising Talent Agency
2016
  • 9 x Site of the Day
  • 22 x Designer of the Day
  • 2 x Agency of the Year

BLOG

My Poetry

زما شاعری۔ : My Poetry Research Methodology 7th Decade of Pakistan Movement Pakistan Movement Last Decade 8th Decade of Pakistan Movement

Read More »

FACEBOOK FEED

Comments Box SVG iconsUsed for the like, share, comment, and reaction icons

عید کے موقع پر سیاحتی مقامات اور پارکوں کی حالت زار :
کاش ہم لوگ صفائی کی بجائے اتنا تو کریں کہ گندگی نہ پھیلائیں۔ درج ذیل تصویر میں جانوروں اور گندگی پھیلانے والوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ آپ اپنی رائے دیجئیے۔[ڈاکٹر فخرالاسلام]
... See MoreSee Less

عید کے موقع پر سیاحتی مقامات اور پارکوں کی حالت زار :
کاش ہم لوگ صفائی کی بجائے اتنا تو کریں کہ گندگی نہ پھیلائیں۔ درج ذیل تصویر میں جانوروں اور گندگی پھیلانے والوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ آپ اپنی رائے دیجئیے۔[ڈاکٹر فخرالاسلام]

Comment on Facebook

@followers @top fans

With due apology sir Pa Roads che kam tourist rawan de mostly on motorcycles 🏍 and on trucks are illiterate, and duffers types They don’t know tourism ethics and revisit intentions

کیا ہم اشرف المخلوقات کہلانے کے لائق ہیں؟ میرے خیال میں تو نہیں

So sad but fact بعضے خلق د جانورو نہ بدتر وی

بالکل، ایسے ماحولیاتی تبادلے کی منفی اثرات کو روکنے کے لئے ہمیں جمعیتی طور پر اہمیت دینی چاہئے۔ ہمیں متعلقہ حکومتیں، محلی انتظامیہ، اور شہری اجتماعی ادارے کے ساتھ مل کر ماحول کی حفاظت کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئے۔

Belkul yahi haal hamari Charagah ka he

سر آپ ہی کی ایک پوسٹ سے مُجھے اب بھی ایک جملہ یاد ہے کہ ھم "اتنے گندے کیوں ھیں"

Dr Sb da nation Da samidu me De ???

اللہ انسانوں کو ہدایت دیں۔آمین سر

زما د غزل یو شعر سرجي ستا جفا خو الودګې د نن ماحول ده د ارمان په کور ورېږي مې باران تریخ

What a comparison. Really we should change our behaviour regarding the highlighted issue. Good post to sensatize the concerned.

افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہم اشرف المخلوقات حیوانات سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں ،😔

اپنے ملک میں ایسے غلط کاموں سے ھمیں خوشی ھوتی ھے کچھ ویڈیوز وائرل ھوئی ھیں باغ ناران حیات آباد کی دیکھ کر رونا ھے مگر یہی لوگ جب باہر کے ممالک میں جاتے ہیں تو تیر کی طرح سیدھے ھو جاتے ھیں

Agreed

بہت بری عادت ہے ،

قابل افسوس ۔۔۔

مطلب ہم جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں 🌿☘🍀🌲⚘🍁

Ye pic me ni 3 years pehli Leya ta ye gabin jaba he

اوپر اور نیچھے والی تصاویر کے موالخرذکر والی تصویر میں عکس حیوان جلوہ گر ہے، 😉

محترم ڈاکٹر صیب پاکستانی قوم اور حکمرانوں میں شعور کب اے گا افسوس صد افسوس

Afsos .... 😢

Lato ke boot bato se nhi mante jab tak intizamiyan skht barti se Inko na nimtaye yhi halat honge keoki dar hi hamre awam ko. Shi krskti hai sahoor tu Ana. Nhi in main

View more comments

پہاڑ سے بھی بلند حوصلہ
کیا ایسا کوئی اور لیڈر ہے دنیا میں ؟

عید کے دن ح م ا س کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے تین جوان بیٹوں[تین پوتیوں اور ایک پوتے]کو درندوں نے شہید کر دیا۔ اسماعیل کو یہ خبر دی گئی تو زبان پہ بس یہی جملہ تھا "حسبن اللہ و نعم الوکیل"۔ کیا پوری اسلامی دنیا کے بونے لیڈروں میں اس قد کاٹھ کا کوئی لیڈر ہے؟[ڈاکٹر فخرالاسلام]
... See MoreSee Less

پہاڑ سے بھی بلند حوصلہ
کیا ایسا کوئی اور لیڈر ہے دنیا میں ؟

عید کے دن ح م ا س کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے تین جوان بیٹوں[تین پوتیوں اور ایک پوتے]کو درندوں نے شہید کر دیا۔ اسماعیل کو یہ خبر  دی گئی تو زبان پہ بس یہی جملہ تھا حسبن اللہ و نعم الوکیل۔ کیا پوری اسلامی دنیا کے بونے لیڈروں میں اس قد کاٹھ کا کوئی لیڈر ہے؟[ڈاکٹر فخرالاسلام]Image attachment

Comment on Facebook

@followers @top fans

اس ظلم اور بربریت پر پوری مسلم دنیا کی خاموشی پر انتہائی دکھ اور افسوس ھوتا ھے اللّٰہ تعالٰی اسماعیل ھنیہ کو صبر عطا فرمائے آمین

اللہ تعالی ان کا حامی و ناصر ہو ۔۔۔۔۔۔۔ Our prayers and regards for him.

اللہ تعالیٰ جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

Great leader ❤ 😭😭😭

Allah dee madad wakee!!!

اللہ پاک ان کی شہادت قبول فرمائیں۔ بالکل نہیں۔پوری امت مسلمہ میں نہیں۔لیکن افسوس یہ بھی ہے کہ کوئی اس جیسا بننے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔

او،یو محمد مرسي وو

دو بچے اور ایک نواسا تھا اللہ اس کے شہادت قبول فرمادیں

اللہ پاک شہادت قبول فرماے آمین اور صبر جمیل انتہائی افسوس اور ظلم

Khafa shom sir g

😢

اس ظلم اور بربریت پر پوری مسلم دنیا کی خاموشی پر انتہائی دکھ اور افسوس ھوتا ھے اللّٰہ تعالٰی اسماعیل ھنیہ کو صبر عطا فرمائے آمین

موجودہ دور میں ایسی مثال ناممکن اور اس قد کاٹھ کا لیڈر دوسرا کوئی نہیں ہے

اللہ تعالی ان کا حامی و ناصر ہو ۔۔۔۔۔۔۔ Our prayers and regards for him.

Bay hiss Musalmano ka ghayrat ab b nahi jagayga.

باقی لیڈر تو کھانے پینے کیلئے اور اپنے عیش و عیاشی کیلئے ذندہ ھے۔ اللّٰہ تعالی اس سانحے پر اسماعیل ھنیہ کو صبر و استقامت دیں۔ اور مسلم امہ کے برائے نام جرنیل جو اپنے عوام پر ظلم اور اپنے لوٹمار کیلئے ھیں۔پیغمبرعلیہ السلام کے سامنے شرمندہ ھونگے۔کیونکہ جو مسلمان سپہ سالار کا حق تھا۔وہ کسی لیڈر یا سپہ سالار نے ادا نہی کیا۔نہ کسی مسلمان لیڈر نے قوم کو ان سانحات سے مقابلے کیلئے تیار نہی کیا۔آج ہمیں شرمندگی اور ندامت محسوس ھورہی ھے۔کیونکہ جو ملک اسلامی نظرئیے کے تحت وجود میں تھا۔اپنا مقصد حیات اور کاز سے ہٹ گیا ھے۔ہماری مسلم دنیا کو لیڈرشپ کی شدید فقدان ھے۔ یااللہ تو ہماری حالت پر رحم فرما۔اور فلسطین اور کشمیر کی مظلوم مسلمانوں کی خصوصی مدد فرما۔ آمین۔

View more comments

تمام دوستوں، احباب، شاگردوں اور ان کے اہل خانہ کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک ... See MoreSee Less

تمام دوستوں، احباب، شاگردوں اور ان کے اہل خانہ کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک

Comment on Facebook

Eid Mubarak ♥️

Eid Mubarak

تقبل الله طاعتكم وأعاد عليكم رمضان بالخير واليمن والبركات وكل عام وأنتم بخير

خیر مبارک سر

Khair Mubarak ❤️‍🔥🤷🏻‍♂️

عید مبارک

Eid mubarak dear sir

Eid mubarak to you dear sir

عید مبارک

Khair Mubarak Sir Ap sub ko b Eid Mubarak

اپ کو بھی بہت بہت مبارک اس عید کے سارے رنگ مظلوم فلسطینیوں کے سنگ

Eid Mubarak to you and your family Sir,

تمام دوستوں ، رشتے داروں ،عزیز و اقارب اور امت مسلمہ کو عید سعید کی بہت بہت مبارک باد ، اپنی خوشیوں میں فلسطینی بھائیوں کو اپنی دعاوں میں ضرور یاد رکھیے گا۔

Eid Mubarak to everyone 😊

اختر مو مبارک شه زما له طرفه نه تاسو ته او ستاسو ټولې کورنۍ ته اختر ډېر ډېر مبارک شه. الله دي داسې په زرګونو خوشالۍ ستاسو نصيب کړي ده روغ صحت سره

Sir apko b Eid Mubarak

آپ سب کو بھی عید🌙 کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہو۔

السلام عليکم ورحمة الله وبرکاته 🫡 " تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ" .🤲 عید الفطر مبارك 🌙

خیر مبارک سر آپ اور آپ کے اہل خانہ کو بھی عید سعید کی خوشیاں اور مسرتیں بہت بہت مبارک ہو

خیر مبارک جزاک للہ خیر

Khair Mubarak nd same to you

Same to you sir

View more comments

میرے بچپن کی عید:
جن عیدوں کا میں ذکر کرنے جارہا ہوں وہ آج سے تقریبا 55 سال پہلے منائی جاتی تھیں. اس وقت دولت کم اور محبت ذیادہ تھی. عید کی سب سے بڑی خوشی مسجد میں ناظرہ کے سبق اور سکول سے چھٹی ہوا کرتی تهی.
چاند رات کو عورتیں منہ اندھیرے کچی گلیوں میں جهاڑوں دیکر ان کو دمکا تی تھیں پهر وہ ٹولیوں میں مقامی مزار اخون بابا پر حاضری دیتی تھیں.سچ تو یہ ہے کہ اس حاضری میں تفریح کا پلڑا روحانیت پر کافی بهاری ہوتاتها.
رات کو مارے خوشی ہمیں نیند کہاں آتی تھی نئے کپڑوں وجوتوں، انواع اقسام کے کهانوں، عیدی، رشتہ دار بچوں کےساتھ کھیل کود کا تصور اور عید میلے کی سیر: یہ سب تصورات ہماری نیندوں کے دشمن تھے.

جیسے تیسے رات گزر جاتی تھی. صبح اٹھتے ہی پتہ چلتا کہ گھر کے مرد قبرستان میں عزیز و اقارب کی قبروں پر حاضری دینے جاچکے ہو تے جبکہ خواتین کھانے پکانے میں جت جاتیں. گھر اور پڑوس سے کهانوں کی پکوان کی بھینی بھینی خوشبو چار سو بکهر جاتی تھی. خوشی کے دن دکھ کا اولین واقعہ ماں کی طرف سے نہانے کا تقاضا ہوتاتها.ہم دیہاتی لوگ تھے نہانا ہمیں نہروں اور جهیلوں میں اچها لگتا تها ماں کے ہاتهوں نہلانے کا عمل پولیس تشدد سے کم نہ تها.

خیر اس مشکل مرحلے کے بعد باقی موج ہی موج ہوتی تھی.نماز عید کے لئے مسجد پہنچتے تو ماحول ہی مختلف ہوتا تھا. عام دنوں میں میلے کچیلے نظر آنے والے کسان اور دیگر دیہاتی, اجلے لباس میں ملبوس بہت پیارے لگتے تھے.
نماز کے بعد اہم ترین مہم یعنی عیدی کی تلاش ہوتی تهی. اس کا ایک موٹر طریقہ یہ تها کہ گھر میں پکی چیزوں کو رشتہ داروں کے ہاں لے جایا جائے اور بطور معاوضہ عیدی وصول کر کے فاتحانہ انداز میں گھر واپس آجائیں.

گھر کے کاموں سے فارغ ہوکر ماں رشتہ داروں کے ہاں روانہ ہوتیں.یہ ایک اور دلچسپ مرحلہ هوتاتها جس کے دوران ہم عمر رشتہ داروں کے ساتھ موج مستی کا والہانہ مظاہرہ ہوتا تھا.رشتہ دار بچوں کاجلوس شور مچاتا ہوا عید میلے کی طرف روانہ ہوتاتھا. عید میلے کے مزے ایک طرف, پر یہ ہماری عیدی کو ہڑپ کرکے ہمیں قلاش بھی کر دیتاتھا.
میں کیسے بھول سکتا ہوں عید میلے کا وہ لاٹری والا جس سے اس آس پر ٹکٹ خریدتا تھا کہ کوئی قیمتی چیز نکل آئے مگر وہ ہر بار ٹوکری سے میرا ٹکٹ نمبر نکال کر کسی حقیر چیز کا اعلان کرتا جیسے " لو جی! جوان ! تیری قسمت میں لکھا ہے سوئی، غبارہ یا سیٹی"

دن کے آخری سرے پر ہم تهکے ہارے گھروں کو واپس لوٹتے تهے اور چاند رات کے بر عکس, اب کی بار بہت جلد گھوڑے بیچ کر سو جاتے تهے تاکہ اگلے دن کیلئے تازہ دم اٹھیں (پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام )
... See MoreSee Less

میرے بچپن کی عید:
جن عیدوں کا میں ذکر کرنے جارہا ہوں وہ آج سے تقریبا 55  سال پہلے منائی جاتی تھیں. اس وقت دولت کم اور محبت ذیادہ تھی. عید کی سب سے بڑی خوشی مسجد میں ناظرہ کے سبق اور سکول سے چھٹی ہوا کرتی تهی. 
چاند رات کو عورتیں منہ اندھیرے کچی گلیوں میں جهاڑوں دیکر ان کو دمکا تی تھیں پهر وہ ٹولیوں میں مقامی مزار اخون بابا پر حاضری دیتی تھیں.سچ تو یہ ہے کہ اس حاضری میں تفریح کا پلڑا روحانیت پر کافی بهاری ہوتاتها.
رات کو مارے خوشی ہمیں نیند کہاں آتی تھی نئے کپڑوں وجوتوں، انواع اقسام کے کهانوں، عیدی، رشتہ دار بچوں کےساتھ کھیل کود کا تصور اور عید میلے کی سیر: یہ سب تصورات ہماری نیندوں کے دشمن تھے.

جیسے تیسے رات گزر جاتی تھی. صبح اٹھتے ہی پتہ چلتا کہ گھر کے مرد قبرستان میں عزیز و اقارب کی قبروں پر حاضری دینے جاچکے ہو تے جبکہ خواتین کھانے پکانے میں جت جاتیں. گھر اور پڑوس سے کهانوں کی پکوان کی بھینی بھینی خوشبو چار سو بکهر جاتی تھی. خوشی کے دن دکھ کا اولین واقعہ ماں کی طرف سے نہانے کا تقاضا ہوتاتها.ہم دیہاتی لوگ تھے نہانا ہمیں نہروں اور جهیلوں میں اچها لگتا تها ماں کے ہاتهوں نہلانے کا عمل پولیس تشدد سے کم نہ تها.

خیر اس مشکل مرحلے کے بعد باقی موج ہی موج ہوتی تھی.نماز عید کے لئے مسجد پہنچتے تو ماحول ہی مختلف ہوتا تھا. عام دنوں میں میلے کچیلے نظر آنے والے کسان اور دیگر دیہاتی, اجلے لباس میں ملبوس بہت پیارے لگتے تھے.
نماز کے بعد اہم ترین مہم یعنی عیدی کی تلاش ہوتی تهی. اس کا ایک موٹر طریقہ یہ تها کہ گھر میں پکی چیزوں کو رشتہ داروں کے ہاں لے جایا جائے اور بطور معاوضہ عیدی وصول کر کے فاتحانہ انداز میں گھر واپس آجائیں. 

گھر کے کاموں سے فارغ ہوکر ماں رشتہ داروں کے ہاں روانہ ہوتیں.یہ ایک اور دلچسپ مرحلہ هوتاتها جس کے دوران ہم عمر رشتہ داروں کے ساتھ موج مستی کا والہانہ مظاہرہ ہوتا تھا.رشتہ دار بچوں کاجلوس شور مچاتا ہوا عید میلے کی طرف روانہ ہوتاتھا. عید میلے کے مزے ایک طرف, پر یہ ہماری عیدی کو ہڑپ کرکے ہمیں قلاش بھی کر دیتاتھا.
 میں کیسے بھول سکتا ہوں عید میلے کا وہ لاٹری والا جس سے اس  آس پر ٹکٹ خریدتا تھا کہ کوئی قیمتی چیز نکل آئے مگر وہ ہر بار  ٹوکری سے میرا ٹکٹ نمبر نکال کر  کسی حقیر چیز کا اعلان کرتا جیسے  لو جی! جوان ! تیری قسمت میں لکھا ہے سوئی، غبارہ یا سیٹی

دن کے آخری سرے پر ہم تهکے ہارے گھروں کو  واپس لوٹتے تهے اور چاند رات کے بر عکس, اب کی بار بہت جلد گھوڑے بیچ کر سو جاتے تهے تاکہ اگلے دن کیلئے تازہ دم اٹھیں (پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام )

Comment on Facebook

@followers @top fans

بہت خوب واقعی ایسی ہی عیدین ہوا کرتی تھیں۔۔۔۔ بہترین عکاسی کی ہے۔

Nostalgia flood after reading this!! ♥️

بلکل, اپ نے تفصیلی نوٹ لکھ کر یادوں کو تازہ کیا. ماشاءاللہ محترم.

بہت حوب سر یاد تازہ کرنے کیلئے میرے بچپن کے دن کتنے اچھے کے دن☀

Bhot khooob sir g Beautiful and unforgettable memories

Same was our childhood

زما اخترهم ستاد اختر نه مختلف نه وو البته مونږ پکښې د پلوسئ بابا میلې ته تلو او په بانډېغچو‌به مو زنګل او ګونګړی به خواړه

Ab mbl aagy, Eiden asaan hogyi

بس یوئ خبرئ بہ سخت خفہ کولو چی کلہ بہ مور وئیل چی روغ صورت اختر دے۔

عید کی تقریبات کی رنگینیاں: آپ نے اپنی یادداشت میں عید کی تقریبات کی رنگینی کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ اس وقت کی رنگ و کیفیت کو محسوس کرنا ہم اب بھی کرتے ہیں- ماں کی محبت کی عظمت: آپ کی ماں کے ساتھ نہانے کا ذکر، اور ان کی دیکھ بھال کی یادیں، ماں کی محبت اور لاجوابی کی عظیم مثال فراہم کرتی ہے۔لیکن آپ کے گھر کے ساتھ بہتی ندی میں نہانا بھی ایک یاد رہ گئی۔ دیہاتی/ گاوں زندگی کی خصوصیت: آپ کی دیہاتی زندگی کی تفصیلات اور ان کے مخصوص مواقع، ہمیں ایک دن کی دیہاتی زندگی کی روشنی میں چلنے کی اہمیت کو یاد دلاتے ہیں۔ لاٹری والا اور عید میلے (لوئی کوہی) کی یادیں: آپ کی کہانی میں لوٹری والے کی باتیں اور عید میلے کی روشنی، بچپن کی خوشیوں اور انوکھے تجربات کو یادگار بناتی ہیں۔ یادوں کی قیمت: آپ کی یادیں ہمیشہ آپ کے دل میں محفوظ رہیں گی، اور ان کی قیمت انتہائی بلند ہے۔ ان کی قدر کرنا اور ان سے محبت کرنا بہت اہم ہے۔ آپ کی کہانی میں ان الفاظ کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے، اور یہ ہم سب کا آپ کے ساتھ ایک خاص تعلق اور محبت ظاہرکراتا ہے۔ یہ الفاظ آپ کی کہانی کو زندہ کرتے ہیں، اور آپ کی باتوں میں وہ محبت، وفا، اور ایک خاص محسوسات کی لہریں محسوس ہوتی ہیں جو ہمیں آپ کے ساتھ ایک خاص روابطہ محسوس کراتی ہیں۔ ان الفاظ نے آپ کی کہانی کو ایک خاص رخ دیا ہے، اور ہمیں آپ کی کہانی کے مواقع پر محسوس ہونے والے جذبات کو محسوس کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

سر جی۔۔۔۔ بالکل دولت کم تھی لیکِن محبت بہت زیادہ تھی ۔۔۔۔۔

ڈاکٹر صاحب ایک اخون بابا کی مزار تو ہمارے آبائی گاؤں کی قبرستان میں بھی جس سے آج کی نسل تقریبا ناواقف ہے لیکن پرانے زمانے کے لوگ جانتے بھی ہیں جبکہ اس وقت لوگ انکے مزارپر باقاعدگی سے جاتے بھی تھے کیا یہ اس زمانے کی ہر ولی کو اخون بابا کے نام یاد کئے جاتے تھے؟

واہ۔۔۔ واہ۔۔۔۔ بہترین

بہترین تحریر مزہ آیا ڈیئر سر😍

میرے لئے عید پر بڑوں کی طرف سے عیدی بڑی خوشی ❣️

بہترین تحریر

واہ سر ❤️

عید تو بچپن کی پیاری ہوتی ہے۔ باقی زندگی تو پھر رسم زمانہ نبھانا پڑتا ہے ۔

بہت خوب ۔پہلے بڑوں سے عیدی وصول کرکے مزہ اور پھر میلے میں موج مستی الگ مزہ ھوتا تھا

Sir ham tou sochty hai Eid hua hi na kre

Aisa hi ta sir.khobsorat naqsha khincha hy.

بلکل ایسا هی هوتا

کیا بات ہے سر یادیں انسان کی بہترین سرمایہ ھوتی ھے ۔ کیا انداز قابل رشک

wow kiya time tha ...

View more comments

Load more

YOUTUBE FEED

AFFILIATIONS