navigate_before
navigate_next

Home

Prof. Dr. Fakhr-Ul-Islam (Urdu: ﻓﺨﺮاﻻﺳﻼم )  belongs to a village named Garhi Usmani Khel at Malakand district of Khyber Pakhtunkhwa in Pakistan. He got his master degrees in Pakistan Studies and Political Science from Peshawar and Punjab Universities respectively. He also got Postgraduate Diploma in International Human Rights Law. In 1997, he received his Ph.D. degree from Area Study Centre for Russia, China and Central Asia. Dr. Fakhr has a very brilliant academic record. He topped Peshawar University in BA examination. He has been teaching in Pakistan Study Centre University of Peshawar since 1987. In the meantime he taught in the International Islamic University (IIUI) Islamabad. In IIUI, he also acted as Head Department of Politics and International Relations and Acting Dean Faculty of Social Sciences. He also remained Director Social Welfare and Special Education in the Government of NWFP during 2003-2008. In 2011, he was appointed as Director Pakistan Study Centre Peshawar University, a post he is holding till date. Apart from teaching at Pakistan Study Centre University of Peshawar, he has been teaching as Visiting Professor in various Universities, and research/capacity building institutions. He has to his credit 8 books and 70 research papers published in journals of international repute. He is also Editor of HEC recognized journal “Pakistan” He is associated with numerous research/development organizations and think tanks. He has visited many countries of Asia, Europe and Africa where he participated in various programs and delivered lectures in universities.

00

Research Articles

2019
  • Agency of the Year
  • 5 x Best Design Solution
2018
  • Peace-making Efforts in KP: An Analysis of MMA, ANP and PTI Governments (2002-18)
  • Multicultural Agency
  • 2 x Creative Ads
  • Agency of the Year
  • 4 x Best Design Solution
  • Creative Digital Product
2017
  • 2 x Best Retail Activation
  • 7 x Best SM Campaign
  • Site of the Year
  • Rising Talent Agency
2016
  • 9 x Site of the Day
  • 22 x Designer of the Day
  • 2 x Agency of the Year

BLOG

My Poetry

زما شاعری۔ : My Poetry Research Methodology 7th Decade of Pakistan Movement Pakistan Movement Last Decade 8th Decade of Pakistan Movement

Read More »

FACEBOOK FEED

Comments Box SVG iconsUsed for the like, share, comment, and reaction icons

ڈونلڈ ٹرمپ کو گولی مار دی گئی

ترقی یافتہ ملک امریکہ کا یہ منظر دیکھیں۔

امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو بھرے جلسے میں گولی ماردی گئی۔ گولی اس کے کان کو چیرتی ہوئی نکل گئی، ذرا اندر ہوتی تو ان کی موت واقع ہوسکتی تھی

اس واقعے نے ثابت کردیا کہ دنیا واقعی اس وقت غیر محفوظ ہے[ڈاکٹر فخرالاسلام]
... See MoreSee Less

Comment on Facebook

اور گولی چلانے والے کو فوراً مارا بھی گیا۔ ھمارے ھا لیاقت علی حان کے قاتل کو بھی نارا گیا تھا۔ "کہ نہ رھے بانس اور نہ بجے بانسری

The story seems the same but the characters are different, one in the USA and the other in Pakistan and now he will get victory. Attack on yourself and blame others , is the American and realist strategy that has been practiced by everyone.

اب ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت یقینی ہے۔

یہ طریقہ واردات الیکشن جیتنے کے لیے پاکستان میں ہوا کرتی ہے اب انہوں نے بھی یہی طریقہ سیکھ لیا 😁

ڈرامہ بازی

View more comments

نوجوانوں کے ساتھ نشست
آج تفہیم دین اکیڈمی میں سمر کیمپ کے شرکاء کو لکچر دیا اور ان سے خوب صورت مکالمہ ہوا۔ ان میں مختلف سکولوں کے طلباء شامل تھے۔ او لیول، میٹرک اور دیگر درجوں کے۔ پروگرام کے منتظمین فرزند مولانا محمد اسماعیل: عبداللہ اسماعیل اور مولانا کلیم اللہ کی سہولت کاری کا شکریہ۔

لکچر کے بعد جب میں نے سوالات کا موقع دیا تو کوئی بھی سوال کے لئے تیار نہیں تھا، شاید ان کے سکولوں میں سوال و جواب کا کلچر ہی نہیں۔

لیکن جب میں نے ان کی مسلسل حوصلہ افزائی کی اور سوالات کا شخصیت پر اثرات سے ان کو آگاہ کیا تو انہوں نے اتنے اچھے معیار کے سوالات کئے کہ مجھے خوشگوار حیرت ہونے لگی۔
اکثر اوقات جنریشن گیپ کی وجہ سے ہم نئی نسل سے مکالمہ نہیں کرپاتے اور ان کو ہمیشہ "بچے" سمجھنے لگتے ہیں، یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔

دوسرا یہ کہ ان کو سمجھاتے وقت ہم ڈانٹ، ڈپٹ، دباؤ اور لعن و طعن سے کام لیتے ہیں۔ آج میں نے ان تمام منفی ہتھکنڈوں کی بجائے ان سے دوستانہ ماحول میں بات کی تو اثر ہی دوسرا تھا[ڈاکٹر فخرالاسلام]
... See MoreSee Less

نوجوانوں کے ساتھ نشست
آج تفہیم دین اکیڈمی میں سمر کیمپ کے شرکاء کو لکچر دیا اور ان سے خوب صورت مکالمہ ہوا۔ ان میں مختلف سکولوں کے طلباء شامل تھے۔ او لیول، میٹرک اور دیگر درجوں کے۔ پروگرام کے منتظمین فرزند مولانا محمد اسماعیل: عبداللہ اسماعیل اور مولانا کلیم اللہ کی سہولت کاری کا شکریہ۔

لکچر کے بعد جب میں نے سوالات کا موقع دیا تو کوئی بھی سوال کے لئے تیار نہیں تھا، شاید ان کے سکولوں میں سوال و جواب کا کلچر ہی نہیں۔ 

لیکن جب میں نے ان کی مسلسل حوصلہ افزائی کی اور سوالات کا شخصیت پر اثرات سے ان کو آگاہ کیا تو انہوں نے اتنے اچھے معیار کے سوالات کئے کہ مجھے خوشگوار حیرت ہونے لگی۔
اکثر اوقات جنریشن گیپ کی وجہ سے ہم نئی نسل سے مکالمہ نہیں کرپاتے اور ان کو ہمیشہ بچے سمجھنے لگتے ہیں، یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔

دوسرا یہ کہ ان کو سمجھاتے وقت ہم ڈانٹ، ڈپٹ، دباؤ اور لعن و طعن سے کام لیتے ہیں۔ آج میں نے ان تمام منفی ہتھکنڈوں کی بجائے ان سے دوستانہ ماحول میں بات کی تو اثر ہی دوسرا تھا[ڈاکٹر فخرالاسلام]Image attachment

Comment on Facebook

بہت خوب، آپ جیسے جنیریشن گیپ کو برج کرنے والے(نسلوں کے درمیان فاصلے کم کرنے والے) سکالرز کا انٹر یکشن ہمارے بچوں کے لیۓ بیحد ضرورت ہے۔

Great job sir😍

المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی اولاد کو کسی اچھے کام پر appreciate نہیں کیا۔۔۔ہمیشہ ان کی غلطیوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور جھڑکنا اپنا "صوابدیدی" حق رکھتے ہیں...اس کے مقابلے میں اردو سپیکنگ لوگ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔۔ مثلآ اگر آپ کسی اردو بولنے والے کے مہمان بنے اور بھیٹک میں اچانک ان کا بیٹا جاتا ہے تو باپ کے شیریں الفاظ یہ ہوتے کہ " بیٹا انکل کو سلام کرو،۔۔۔۔جی یہ میرا بیٹا ہے۔۔۔بیٹا انکل کو اپنا نام بتاؤ ۔۔۔۔وغیرہ ا بمقابل اس کے اگر ہمارا بیٹا ایسے ماحول میں اجاتا ہے تو ہمارے تیور بدل جاتے ہیں اور بیٹے کو جھڑک کر کہتے ہیں کہ دیکھتے نہیں ، مہمان کے ساتھ بیٹھا ہوں۔۔۔ یہ روئیے بچے کو agitative بناتے ہیں۔۔۔اور ان کے دل و دماغ میں باپ کا ایک خوفناک نقشہ جگہ پا لیتا ہے۔۔۔ایک لاوا ہوتا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔۔۔ پختونوں کے معاشرے میں یہ ایگریسیو انداز تربیت پتہ نہیں کب سے اور کیوں رواج پاگیا ہے۔۔ میں ایک مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا۔۔نماز کے کے بعد ایک زناٹے دار تھپڑ بمعہ گرجدار آواز سنی۔۔۔دیکھا تو ایک باپ نے بیٹے کو سارے نمازیوں کے سامنے اس لئے تھپڑ مارا تھا کہ اس نے ٹوپی نہیں پہن رکھی تھی ۔۔۔عزت نفس کو مجروح کرکے تربیت کا یہ انداز نوجوانوں میں نافرمانی کی ایک لہر پیدا کررہی ہے۔۔جس کے لئے ہر اخبار نے باقاعدہ آدھا مایوس کن صفحہ ایسا رکھا ہوتا ہے"سنگدل بیٹے نے اپنے باپ کو کلہاڑی کے وار سے ہلاک کردیا"

بہت اچھی کاوش ہے سر اسکو جاری وساری رکھنا چاہیے

Sir ap ny bilkul sahi bat kahi hy .waqi hum young generation sy muqalma aik tou krty nhi.jb karen tou tanz bht karty hen aur ye aksar ma ny Baap ko dhka hy jo apny beton py tanz krty hen ...Ap ny bht acha iqdam uthaya ..

ماشاءالله ماشاءالله طلبہ کی خوش قسمتی ہے ۔ کہ عمر کے اس سٹیج پر آسانی سے یہ موقع حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو تا دیر پا سلامت، تندرست و توانا رکھے۔ آمین

Great Sir, Need of the day

Great sir

Inquisitive minds learn deep and perform well. Always they must be encouraged.

Excellent sir ge

Excellent sir

Beautiful 😍

Great job sir😍

Very good sir, keep it up , we are proud of you 👏 keep up the amazing work 💕 and keep doing your best in life stay safe 💕

Great job sir

Great work, sir.

Very good sir

Well done sir

Good Sir.....and I appreciate your experience...

Excellent 👍💯

سرجی اآپ نے بجا فرمایا ۔ سرجی کھبی کھبی سکولوں اور کالجوں کا وزٹ کرتے رہنا تاکہ زیادہ سے زیادہ آئندہ کی نسلیں مستفید ہو۔

Agreed Sir Jee..

Teacher should be like this who focus in depth on his beloved student's weaknesses and strength

ماشآاللہ سر بہت اچھا اقدام ہے۔۔اللہ تعالی آپکو استقامت عطا فرمائے

اس میں کوئی شک نہیں ھے کہ ھمارا نظام تعلیم معیاری نہیں ھے اساتذہ کی اکثریت کا طریقہ تعلیم بھی وہ نہیں ھے جو ھونا چاہیئے، تعلیمی ماحول بھی مناسب نہیں ھے اور پھر خاص طور والدیں اور بڑوں کا رویہ بھی طالبعلم بچوں کیساتھ دوستانہ نہیں ھے لیکن ان سب کے باوجود الحمد لللہ ھماری نئی نسل میں جستجو ، تعلیمی ادراک ، انہماک ، سیکھنے ، سیکھانے ، دریافت اور تحقیق کا مادہ قابل دید ھے۔ جب بھی ان کو تھوڑا سا ماھر استاد ، دوستانہ ماحول اور حوصلہ افزائی مل جاتی ھے تو وہ دنیا کے کسی بھی معیاری تعلیمی اداروں کے طلبہ سے پیچھے نہیں ھیں۔ کمال کا سوچ بھی رکھتے ھیں اور دانائی کا گر بھی جانتے ھیں معمولی کھلونے کو اٹھا کر دیکھتے ھیں اس کے مختلف حصے اور ان کی کارکردگی کا طریقہ دیکھ اور سمجھ کر بڑے بڑے انجن اور نئی نئی ایجادات کر پاتے ھیں لیکن بدقسمتی یہ ھے کہ جو بھی اس ملک کے اندر کوئی نیا کارنامہ (نئی تحقیق اور ایجادات) کرنے میں کامیاب ھو جاتے ھیں تو نہ ان کے اپنے گھرانے اس کو مالی و اخلاقی سپورٹ فراھم کرنے کی پوزیشن میں ھوتے ھیں اور نہ حکومتیں اور قومی ادارے ان کو ھاتھوں میں لیکر مستقبل کے لئے کارآمد شہری بنانے کی کوشش کرتے ھیں بلکہ اکثر اوقات تضحیک آمیز جملے کس کر حوصلہ شکنی کرتے ھوئے دکھائی دیتے ھیں جس سے نہ صرف ان ھیروز کی حوصلہ شکنی ھو جاتی ھے بلکہ اس کے دیکھا دیکھی دوسرے ھونہار طلبہ بھی کچھ کرنے سے اکتا جاتے ھیں۔ ایسا بھی اکثر دیکھا گیا ھے کہ ایسے ذہین ، فطین ، محقق اور جفاکش طلبہ کو بیرون ملک سے آفر ملتی ھیں جو یا تو ملٹی نیشنلز کمپنیوں کے ھاتھوں چڑھ جاتے ھیں اور ھمیشہ کے لئے اپنے ملک وقوم کی ترقی کی بجائے غیر ممالک کی ترقی کے پہیئے بن جاتے ھیں۔ "ذرہ نم ھو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ھے ساقی" کے مصداق اکثر طلبہ کی ذہنی سطح قابل دید ھوتی ھے لیکن آگے بڑھنے اور صحیح نشونما پانے کے لئے شفیق اور ماھر اساتذہ، اچھا تعلیمی ماحول اور والدین کی طرف سے مناسب راہنمائی اور توجہ دینے سے ایسے "ھیروز" کو چارچاند لگایا جا سکتا ھے۔ اس سلسلے میں آپ کا تعاون اور راہنمائی بھی قابل تحسین وستائش ھے۔

View more comments

د سوات سیند په غاړه د خادګزو نیګرام کلې کښې دَ یاد شاعر ساجد افغان په ځائے کښې راجوړه شوې ادبي ناسته

www.facebook.com/share/r/YU39d5mqKs8jVTyc/?mibextid=oFDknk
... See MoreSee Less

Comment on Facebook

@followers

په زړه پورې او تعميري خبرې.

Nice habits always. Long live gentlemen.

ډېرې علمي او ادبي خبرې دي

ماشاءاللہ۔ ڈیر خکولے۔

د کار خبری

Mashallah ♥️ respectable sir ♥️

💟

View more comments

باجوڑ کا ضمنی انتخاب، مختصر تجزیہ:

1۔ باجوڑ کے ضمنی انتخاب میں عوامی نیشنل پارٹی کے نثار باز غیر سرکاری طور پر ایم پی اے منتخب ہوگئے ہیں۔ اے این پی کو پہلی بار اس علاقے سے صوبائی اسمبلی کی نشست ملی ہے مبصرین کے مطابق یہ کامیابی ووٹ بینک کی بنیاد پر نہیں بلکہ موثر امیدوار کی وجہ سے ملی ہے ان کے مطابق اگراے این پی کا ووٹ بینک ہوتا تو گزشتہ انتخاب میں اس کا اہم ترین امیدوار مولانا خانزیب 5 ویں نمبر پر نہ آتا۔ کہاجاتا ہے کہ نثار باز کی کامیابی میں کئی مقامی فیکٹرز کارفرما رہےہیں۔

2۔باجوڑ میں مستقل ووٹ بینک کے لحاظ سے جماعت اسلامی موثر پارٹی ثابت ہوئی ہے۔ ماضی میں یہ جماعت ایم این اے اور ایم پی اے کی سیٹیں جیت چکی ہے۔ اس ضمنی انتخاب میں بھی جماعت نے اپنا ووٹ بینک محفوظ رکھا۔ اس کے امیدوار عابد خان اور جیتنے والے امیدوار کے درمیان ووٹوں کا فرق کچھ زیادہ نہیں۔ عابد جیسا نوجوان مستقبل میں پارٹی کے لئے اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔
3۔ اس انتخاب میں پی ٹی آئی کی کارکردگی کافی کمزور رہی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کے اسباب پر پارٹی غور کر رہی ہے۔

4۔ یہ معلوم نہیں کہ ہارنے والے امیدواروں کا نتیجے کے بارے میں موقف کیا ہے؟ خاصکر دوسری اور تیسری پوزیشن والوں کا۔ اگر وہ اس کو چیلنج کرتے ہیں تو آگے دیکھنا ہوگا کہ ہوتا کیا ہے؟
[ڈاکٹر فخرالاسلام]
... See MoreSee Less

باجوڑ کا ضمنی انتخاب، مختصر تجزیہ:

1۔ باجوڑ کے ضمنی انتخاب میں عوامی نیشنل پارٹی کے نثار باز غیر سرکاری طور پر ایم پی اے منتخب ہوگئے ہیں۔ اے این پی کو پہلی بار اس علاقے سے صوبائی اسمبلی کی نشست ملی ہے مبصرین کے مطابق یہ کامیابی ووٹ بینک کی بنیاد پر نہیں بلکہ موثر امیدوار کی وجہ سے ملی ہے ان کے مطابق اگراے این پی کا ووٹ بینک ہوتا تو گزشتہ انتخاب میں اس کا اہم ترین امیدوار مولانا خانزیب 5 ویں نمبر پر نہ آتا۔ کہاجاتا ہے کہ نثار باز کی کامیابی میں کئی مقامی فیکٹرز کارفرما رہےہیں۔

2۔باجوڑ میں مستقل ووٹ بینک کے لحاظ سے جماعت اسلامی موثر پارٹی ثابت ہوئی ہے۔ ماضی میں یہ جماعت ایم این اے اور ایم پی اے کی سیٹیں جیت چکی ہے۔ اس ضمنی انتخاب میں بھی جماعت نے اپنا ووٹ بینک محفوظ رکھا۔ اس کے امیدوار عابد خان اور جیتنے والے امیدوار  کے درمیان ووٹوں کا فرق کچھ زیادہ نہیں۔ عابد جیسا نوجوان مستقبل میں پارٹی کے لئے اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔  
3۔   اس انتخاب میں پی ٹی آئی کی کارکردگی کافی کمزور رہی۔  معلوم ہوا ہے کہ اس کے اسباب پر پارٹی  غور کر رہی ہے۔

4۔ یہ معلوم نہیں کہ ہارنے والے امیدواروں کا نتیجے کے بارے میں موقف کیا ہے؟ خاصکر دوسری اور تیسری پوزیشن والوں کا۔ اگر وہ اس کو چیلنج کرتے ہیں تو آگے دیکھنا ہوگا کہ ہوتا کیا ہے؟
[ڈاکٹر فخرالاسلام]

Comment on Facebook

دمره جالبه تجزېه زمونږ ېې اېله سر خلاص کړ مونږ ته خو بېخې نه وا معلومه چې دوهم څوک راغلل او درېم او نه راته د علم ؤ چې د چېلنج کولو په صورت کې به څه پېخېږې ۔۔۔۔ دې نه هم خبر شو چې جوماتېسلامې دلته نه سېټونه ګټلې ؤ مخکې

سر جی جماعت اسلامی کی پوزیشن کافی مضبوط تھی ۔گیلامند کی شہادت باز کی فتح کی وجہ بنی ۔دوسری بات پی ٹی آئی کی آپریشن کی حمایت اور اے این پی کی مخالفت بھی ایک بڑی وجہ تھی۔3 باز ایک عوامی لیڈر ہے ۔مشتاق احمد کو کمپئن سے روکا گیا۔

پی ٹی ائی کے ہارنے کی وجہ صاف ہے کہ یہ فکس میچ نہیں تھا ۔۔جب بھی اوریجنل الیکشن ہوگا تو ملک کی اوریجنل سی ایسی جماعتوں کے درمیان ہوگا جیسے باجوڑ میں ہوا ۔۔

لگتا ہے اپ کا اباٸی علاقہ بھی باجوڑ ہے

باجوڑ الیکشن میں کامیابی قوم پرستی کے بیانیے پی ٹی آئی کے اپنے اندر اختلاف سے نثار باز کو ہوئی ہے البتہ جماعت اسلامی کے امیدوار بہت کم مارجن سے ہار گئے۔۔ ورنہ گزشتہ دو ماہ قبل انتخابات میں اے این پی کے امیدوار پانچویں نمبر تھے جبکہ اس بار پی ٹی ایم ۔جے یوآئی پیپلز پارٹی پی ڈی ایم ٹو جس میں مسلم لیگ ن بھی شامل تھے انکو سپورٹ کیا

Agreeee sir g

Sir good analysis

پچھلی بار بھی مولانا خان زیب اگر جیت جاتے تو بہت اچھا ہوتا کیونکہ اے این پی میں ایسے دلیل اور مضبوط اور عوامی حقوق کیلئے شاید کوئی امیدوار ہو جو کہ نثار باز اور مولانا خان زیب ہیں میں نے تو کبھی اے این پی کو سپورٹ نہی کیا لیکن یہ دو بندے لاجواب ہیں ویلڈن باز🌹🦅

2 nd number sok day

پہ باجوڑ کے دہ جمعیت او پی پی پی کافی ووٹ دے۔ اع ھغہ ورسرہ ملگرے شو نو وئ گٹلہ۔

ڈاکٹر صاحب بہت سے عوامل اسمیں کارفرما ہے ۔کمنٹ میں اس پر کھل کر بات نہی ہوسکتی اسمیں ایک اعلان کردہ فوجی اپریشن ہے ۔

اگر نیشنل اپنے گھر سے نہین جیت سکتے تو یہان جیتنا معنی رکھسکتا ھے

اس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باجوڑ قیادت کے لحاظ سے کافی زرخیز ہے۔

اتفاق ھے لیکن باقی دنیا کی طرح پاکستان میں انتخابات اور سیاست کے لئے اسٹبلشمنٹ ایک ٹرینڈ سیٹ کرتا ھے پاکستان میں اب ایک نیا ٹرینڈ سیٹ ھورھا ھے کے پی میں اے این پی کو گرین سگنل مھینہ پھلے مل گیا تھا باقی کے پی میں سیاست کا کنٹرول ھمیشہ اسلام آباد سے ھوتی ھے ۔ باجوڑ جماعت مبارکباد کے مستحق ھے مرکز کی طرف سے دو ٹوک پالیسی ھو تی تو جیت بھی سکتے تھے

آج لوگ کھوکھلے نعروں پر یقین نہی کرتے، قبائل اب عملی لوگوں کیساتھ کھڑے ھونا چاھ رھے ھے۔۔ واقعی باز ایک امن پسند اور عملی اینڈ متخرک شخص ھے، جو ھر میدان میں باجوڑ کے لوگوں کیساتھ کھڑا ھوتا دکھائ دیا ھے۔۔

سر نثار باز پارٹی بیانیہ کے ساتھ میدان میں تھا ان کے مقابلے میں کافی سرمایہ دار لوگ تھے .کسی امیدوار کے خلاف بات نہیں کی نہ الزامات لگائی اور کافی عرصہ سے باجوڑ اور پختونخوا کے ہر مسلے پر متحرک رہا دوسری بات باجوڑ کے لوکل پارٹی قیادت نے نثار باز کا ساتھ دیا اور سب سے اہم بات سوشل میڈیا کا موثر استعمال کیا.

جماعت اسلامی کے امیدوار کے کروڑوں روپے لگانے کے باوجود نثار باز جیت گئے لوگوں نے خانزم کو مسترد کر دیا اور ایک غریب بندے کو اسمبلی تک پہنچایا

2nd awr 3rd position walo Ney kal raat he Mubarakbad Diya ,

With most respect #Maulana_Khan_Zeb موٽر umedwar nhi thy kia???

Sir sa Gilaman hum yad ka.

Sir ANP k bayania Jeet gaya

Abid hu 3 rd day

Prof. Dr. Fakhr-ul-Islam متفق۔ Dr Anwar Zada Timergara Dir Lower KP

تحریک انصاف کے ووٹ نثار باز کو پڑے ہے جبکہ اعلان آپریشن کے خلاف نثار باز نے بیانیہ بنایا جو کامیاب رہا

اسٹیبلشمنٹ نے جسطرح ایمل ولی کو ایک ایم پی اے پر بلوچستان سے سنیٹر بنایا اسی طرح باجوڑ میں بھی جیتا جماعت اسلامی کو اسٹیبلشمنٹ کسی صورت نہیں جیتنے دیں گے

View more comments

Load more

YOUTUBE FEED

AFFILIATIONS